کڑوے گھونٹ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - دشوار کام، ناگوار باتیں، تلخی۔ "ان کی بے غرض محبت گاہ بہ گاہ پند و نصائح کے کڑوے گھونٹ پلانے کی عادی تھی۔"      ( ١٩٤٣ء، جنت نگاہ، ١٧ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ صفت 'کڑوا' کی مغیرہ شکل 'کڑوے' کے بعد اسی زبان سے ماخوذ اسم 'گھونٹ' لانے سے مرکب ہوا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٧٢ء کو"محامد خاتم النبیین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دشوار کام، ناگوار باتیں، تلخی۔ "ان کی بے غرض محبت گاہ بہ گاہ پند و نصائح کے کڑوے گھونٹ پلانے کی عادی تھی۔"      ( ١٩٤٣ء، جنت نگاہ، ١٧ )

جنس: مذکر